کنداپور 17 ڈسمبر (ایس او نیوز) تعلقہ کے ہیماّڈی۔ کولوّر اسٹیٹ ہائی وے پر دن دھاڑے شرپسندوں نے ایک بائک سوار کا پیچھا کرتے ہوئے دھاردار ہتھیاروں سے اُس کا بے رحمی کے ساتھ قتل کردیا اور جائے وقوع پر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ واردات منگل کی دوپہر کو پیش آئی۔
مرنے والے بائک سوار کی شناخت کنداپور تعلقہ کے نیرلاکٹے کے قریب جورمکی ّ کے رہائشی بابو شٹی (55) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق واردات دوپہر کو پیش آئی تھی مگر منگل شام کو متعلقہ علاقہ سے گذرنے والے ایک شخص نے لاش کو راستے پر پڑی دیکھ کر علاقہ کے گرام پنچایت صدر کے طفیل پولس کو خبر دی اور اطلاع ملتے ہی پولس جائے وقوع پر پہنچ گئی۔
بتایا گیا ہے کہ دوپہر قریب بارہ بجے بابو شٹی اپنی بائک پر سوار اپنے گھر(جورمکی ّ) سے کنداپور جانے کے لئے نکلا تھا، مگر خون سے لت پت اس کی نعش کالمبا کے قریب پڑی ہوئی پائی گئی۔ جائے وقوع پر پہنچنے کے بعد پولس کو پتہ چلا کہ بابو شٹی کچے روڈ سے گذررہا تھا جو کولوّر۔ ہیماّڈی روڈ سے ہٹی انگڈی کو جوڑتا تھا، پولس نے اندازا لگایا ہے کہ بابو شٹی کی بائک کا پیچھا کیا جارہا تھا جس سے بچنے کے لئے وہ کچے روڈ سے فرار ہونے کی کوشش کی ہوگی، مگر شرپسندوں نے کچے روڈ پر بھی اس کا پیچھا کیا اور حملہ کرنے کے بعد فرار ہوگئے۔
بابو شٹی کی گردن سمیت سر، چھاتی اور پیٹ پر گہرے زخم دیکھے گئے جبکہ پورا بدن خون سے لت پت تھا۔ شبہ ہے کہ ذاتی دشمنی کی بنیاد پر اس کا قتل کیا گیا ہے۔
کتوں اور فنگر پرنٹس کے ماہرین کے ساتھ پولس نے جائے وقوع کا جائزہ لیا اور ضروری کاروائیو ں کے بعد نعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے روانہ کردیا۔ اُڈپی ایس پی نیشا جیمس، اسسٹنٹ ایس پی ہری رام شنکر، سرکل پولس انسپکٹر منجپّا، بیندور رکن اسمبلی سوکمار شٹی سمیت کافی دیگر پولس اہلکاروں نے موقع واردات پر پہنچ کر معائنہ کرتے ہوئے ضروری کاروائی انجام دی۔
پتہ چلا ہے کہ بابو شٹی کو بیوی، ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے، کاروباری دشمنی یا پھر جائیداد کو لے کر آپسی دشمنی کے زاوئے سے اس قتل کو دیکھا جارہا ہے۔ پولس پورے واقعے کی جانچ کررہی ہے۔